بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرکے امریکی بالادستی کے بہت سے ذہنی تصورات کو اپنی حماقت پر قربان کر دیا، اور امریکی کمزوریوں کو طشت از بام کر دیا۔
اب وہ ایک بند گلی میں پھنسا ہؤا ہے ایک طرف سے امریکہ کو اس ہلاکت خیز بھنور سے نکالنا چاہتا ہے اور دوسری طرف سے ایران کے مقابلے میں شکستوں اور ناکامیوں سے بھرپور کارکردگی سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔
اس سلسلے میں ٹرمپ کے ہسٹریک اور ہیجانی اقدامات اور جنگ کی آج تک کی پیشرفت اسی حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔ ٹرمپ نے ابتداء میں ایک تیزرفتار، مختصر، آسان اور نتیجہ خیز جنگ کا نعرہ لگا، لیکن جب ایران مقابلے میں امریکہ اور صہیونی ریاست پر بے شمار کاری ضربیں لگائیں تو ٹرمپ نے جنگ بندی کا سہارا لیا اور اس ذریعے سے خود کو نجات دلانے کی کوشش کی۔
جنگ بندی کے بعد اس کی آنکھیں مذاکرات پر لگی تھیں لیکن وہاں بھی ناکام رہا اور مذاکرات کے دوران خلیج فارس میں چوری چپکے جنگی جہاز داخل کرکے اپنا موقف مضبوط کرنے کی کوشش کی لیکن جہازوں کو ایرانوں نے مار بھگایا اور مذاکرات بھی اس کی ناکامیوں کی فہرست میں مزید ایک بڑی ناکامی کا باعث ہوئے۔
چنانچہ اس نے ایک عجیب اور انتہائی کم عقلی یا بے عقلی پر مبنی منصوبے کا اعلان کیا "ایران کا بحری محاصرہ!"
ایران ایک وسیع و عریض ملک ہے، شمال سے جنوب اور مغرب سے مشرق تک پھیلا ہؤا، ایک چھوٹے براعظم کی شکل کا ملک، 16 ممالک کا بری و بحری پڑوسی: پاکستان، افغانستان، ترکمنستان، ازبکستان، قزاقستان، روس، آذربائی جان، ارمینیا، ترکیہ، عراق، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، امارات اور عمان۔
ایران کے محاصرے کا عمل افغانستان اور عراق پر حملے، وسطی ایشیا میں فوجوں کی تعیناتی، آذربائی جان پر صہیونی تسلط، ترکیہ، اردن، عراق اور خلیج فارس کی جنوبی عرب ریاستوں میں میں اڈوں کے قیام، مشرقی یورپ میں بغاوتوں وغیرہ سے شروع ہؤا تھا لیکن حالیہ جنگ میں یہ سب ناکام ہو گیا۔ ناعاقبت اندیش پیڈوفائل کے سائکوپیک نے ان ناکامیوں کے بعد پھر بھی فتح مندی جتانے کے لئے ایک ناقابل عمل منصوبے کا اعلان کیا جو بہت مشکل اور امریکہ کے لئے بہت مہنگا پڑے گا؛ کیونکہ آبنائے ہرمز کے بعد اب آبنائے باب المندب بھی بند ہو سکتا ہے اور دنیا کو مزید ناقابل برداشت چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اب بیانیوں کی جنگ ایک بار پھر ایران کے حق میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اسی بیانئے کے تسلسل ميں، تہران میں الجزیرہ کے نامہ نگار "نورالدین الدغیر" کا کہنا ہے کہ "میں سن رہا ہوں کہ [بظاہر ایران کے بحری محاصرے کے دعویدار] امریکی حکام کی طرف سے، کچھ واسطوں سے تہران کو پیغام ملا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہتا ہے کہ مذاکرات سے ایک ایسا نتیجہ سامنے آئے جس سے امریکی صدر کی کامیابی کی مدہم سی تصویر بن پائے۔"
الدغیر کے دعوے کے صحیح یا غلط ہونے سے قطع نظر، حقیقت یہ ہے کہ عالمی بیانیہ ایران کی فتح اور امریکی شکست پر تاکید کر رہا ہے، چنانچہ امریکہ کو ایک ایسی علامت کی ضرورت ہے جو اس کی ظاہری کامیابی کا مظہر ہو۔
ٹرمپ نے ان 46 دنوں میں 60 سے زیادہ مرتبہ ایران کے مکمل خاتمے اور امریکہ کی اٹل فتح کے دعوے کئے ہیں، اور اگرچہ اس کو ـ عالمی منڈیوں کی بے چینی کو کنٹرول کے لئے بھی ـ ان دعوؤں کی ضرورت ہے، گوکہ یقینا خود کو فاتح کے طور پر متعارف کرانے کے درپے بھی ہے؛ لیکن بین الاقوامی رائے عامہ کے میدان میں یہ ظاہری تصویر بھی قابل اعتماد نہیں ہے۔
میدانی حقیقت اور ابلاغیاتی بیانئے روز بروز عیاں کر رہے ہیں کہ طاقت کا توازن امریکہ کے خلاف، بدل رہا ہے۔
جنگ کے آغاز پر، ٹرمپ ایک "آسان اور نتیجہ خیز جنگ" کے دعوے کر رہا تھا، لیکن اب وہ ایران کے بحرے محاصرے جیسے انتہائی مہنگے اور ناقابل عمل منصوبوں کا سہارا لے رہا ہے اور اس طرح سے جھوٹے فاتحانہ بیانئے کی تشکیل کے لئے کوشاں ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے میں امریکہ اور اس کے صہیونی اور عرب اتحادیوں کی ہمہ جہت ناکامیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی حکمت عملی ناکام ہوگئی ہے، ایرانی تیل آزادانہ طور پر بک رہا ہے، اور ایران کے لئے مزید کشائشیں آ رہی ہیں، امریکہ اور اس کے حامی دباؤ ڈال کر خود زیادہ شدید دباؤ سے دوچار ہونے لگے ہیں، چنانچہ "امریکی فتح" کا بیانیہ بنانے کے لئے کوئی بھی کوشش پہلے سے کہیں زیادہ، ناقابل یقین ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ